28 اکتوبر، 2026، 11:52 AM

یک طرفہ پابندیاں، گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم کی سخت مخالفت

یک طرفہ پابندیاں، گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم کی سخت مخالفت

گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم نے غیر قانونی یکطرفہ پابندیوں اور اقوام متحدہ کے دائرہ کار سے باہر جبری اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے گیس کی فراہمی کے تحفظ، طویل مدتی معاہدوں اور بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ طریقہ کار وضع کرنے پر زور دیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم کا آٹھواں سربراہی اجلاس ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور دیگر رکن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ حکام کی شرکت کے ساتھ ماسکو میں اختتام پذیر ہوگیا۔ اجلاس کا اختتامی اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

اعلامیے میں یکطرفہ پابندیوں اور اقوام متحدہ کے دائرہ کار سے باہر جبری اقدامات کی سخت مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ محصولات کے نفاذ اور جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے منفی اثرات عالمی توانائی کی منڈی میں استحکام، سلامتی اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو متاثر کر سکتے ہیں۔

اعلامیے میں بین الاقوامی قانون کے منافی تمام جبری اقدامات اور بیرون ملک اثرانداز ہونے والی پابندیوں کو مسترد کیا گیا۔

رکن ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی کی منڈی میں غیر یقینی صورت حال اور قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو کم کرنے کے لیے طویل مدتی معاہدوں اور قیمتوں کے تعین کے متنوع طریقوں سے استفادہ کیا جانا چاہیے، تاکہ سرمایہ کاری کو بھی فروغ مل سکے۔

اجلاس میں گیس کی فراہمی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بیرونی بحرانوں اور اچانک پیدا ہونے والے حالات کے اثرات کا جائزہ لینے اور ان سے نمٹنے کے لیے مشترکہ رابطہ کاری کا طریقہ کار قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

اعلامیے میں توانائی کی منتقلی کے عمل میں قدرتی گیس کے مرکزی کردار پر زور دیتے ہوئے اسے کم کاربن اخراج والے توانائی کے ذریعے کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ٹیکنالوجی کی غیر جانب داری کے اصول کی پابندی کو ضروری قرار دیا گیا۔

واضح رہے کہ گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم کے رکن ممالک دنیا کے مجموعی ثابت شدہ گیس ذخائر کا تقریباً 70 فیصد رکھتے ہیں۔ تنظیم کے 12 مستقل رکن ممالک میں ایران، روس، قطر، الجزائر اور وینزویلا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں، جبکہ آٹھ ممالک مبصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس تنظیم کے سربراہی اجلاس ہر دو سال بعد منعقد ہوتے ہیں۔

News ID 1942432

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha